سنن أبي داود حدیث نمبر: 5107
Sunan Abi Dawud 5107
کتاب #--: ابواب: سونے سے متعلق احکام و مسائل
117: باب فِي الصَّبِيِّ يُولَدُ فَيُؤَذَّنُ فِي أُذُنِهِ
باب: بچہ پیدا ہو تو اس کے کان میں اذان دینا کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ حُمَيْدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قال لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ رُئِيَ، أَوْ كَلِمَةً غَيْرَهَا فِيكُمُ الْمُغَرِّبُونَ؟ قُلْتُ: وَمَا الْمُغَرِّبُونَ؟ قَالَ: الَّذِينَ يَشْتَرِكُ فِيهِمُ الْجِنُّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تم میں «مغربون» دیکھے گئے ہیں“ آپ نے ”دیکھے گئے ہیں“ کہا یا اسی طرح کا کوئی اور لفظ کہا، میں نے پوچھا: «مغربون» کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”وہ لوگ جن میں جنوں کی شرکت ہو ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5107]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ شرکت چاہے اللہ کی یاد سے غفلت اور شیطان کی اتباع کی وجہ سے ہو یا زنا کی اولاد ہونے کی وجہ سے ہو، یا شیاطین کی صحبت سے پیدا ہوئے ہوں۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ابن جريج عنعن وأبوه: لين وأم حميد لا يعرف حالھا (تق: 4087،8726) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 177
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17978) (ضعیف الإسناد) (اس کی راویہ ام حمید مجہول ہیں)