سنن أبي داود حدیث نمبر: 5094
Sunan Abi Dawud 5094
کتاب #--: ابواب: سونے سے متعلق احکام و مسائل
112: باب مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ
باب: آدمی گھر سے باہر نکلے تو کیا دعا پڑھے؟
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: " مَا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْتِي قَطُّ إِلَّا رَفَعَ طَرْفَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ أَوْ أُضَلَّ، أَوْ أَزِلَّ أَوْ أُزَلَّ، أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی میرے گھر سے نکلتے تو اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھاتے پھر فرماتے: «اللهم إني أعوذ بك أن أضل أو أضل أو أزل أو أزل أو أظلم أو أظلم أو أجهل أو يجهل على» ”اے اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں گمراہ کروں، یا گمراہ کیا جاؤں، میں خود پھسلوں یا پھسلایا جاؤں، میں خود ظلم کروں یا کسی کے ظلم کا شکار بنایا جاؤں، میں خود جہالت کروں، یا مجھ سے جہالت کی جائے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5094]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (3427) نسائي (5488) ابن ماجه (3884) ¤ الشعبي لم يسمع من أم سلمة رضي اﷲ عنھا ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 176
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الدعوات 35 (3427)، سنن النسائی/الاستعاذة 29 (5488)، 64 (5541)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 18 (3884)، (تحفة الأشراف: 18168)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/306، 318، 322) (صحیح) حدیث میں رفع طرفہ إلی السماء (آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی) کا جملہ صحیح نہیں ہے، نیز صحیحین وغیرہ میں نماز میں نگاہ اٹھانے کی ممانعت آئی ہے، آسمان کی طرف نماز یا نماز سے باہر دونوں صورتوں میں نگاہ اٹھانا ممنوع ہے ملاحظہ ہو: (الصحیحة 3163 وتراجع الالبانی 136)