سنن أبي داود حدیث نمبر: 5082
Sunan Abi Dawud 5082
کتاب #--: ابواب: سونے سے متعلق احکام و مسائل
110: باب مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ
باب: صبح کے وقت کیا پڑھے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ أَبِي أَسِيدٍ الْبَرَّادِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: " خَرَجْنَا فِي لَيْلَةِ مَطَرٍ وَظُلْمَةٍ شَدِيدَةٍ نَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ لَنَا فَأَدْرَكْنَاهُ، فَقَالَ: أَصَلَّيْتُمْ؟ فَلَمْ أَقُلْ شَيْئًا , فَقَالَ: قُلْ فَلَمْ أَقُلْ شَيْئًا، ثُمَّ قَالَ: قُلْ , فَلَمْ أَقُلْ شَيْئًا، ثُمَّ قَالَ: قُلْ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَقُولُ؟ قَالَ: قُلْ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، حِينَ تُمْسِي وَحِينَ تُصْبِحُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ تَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ".
عبداللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بارش کی ایک سخت اندھیری رات میں نماز پڑھانے کے لیے تلاش کرنے نکلے، تو ہم نے آپ کو پا لیا، آپ نے فرمایا: ”کیا تم لوگوں نے نماز پڑھ لی؟“ ہم نے کوئی جواب نہیں دیا، آپ نے فرمایا: ”کچھ کہو“ اس پر بھی ہم نے کچھ نہیں کہا، آپ نے پھر فرمایا: ”کچھ کہو“ (پھر بھی) ہم نے کچھ نہیں کہا، پھر آپ نے فرمایا: ”کچھ تو کہو“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا کہوں؟ آپ نے فرمایا: «قل هو الله أحد» اور معوذتین تین مرتبہ صبح کے وقت، اور تین مرتبہ شام کے وقت کہہ لیا کرو تو یہ تمہیں (ہر طرح کی پریشانیوں سے بچاؤ کے لیے) کافی ہوں گی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5082]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (2163) ¤ أخرجه الترمذي (3575 وسنده حسن) ورواه النسائي (5430 وسنده حسن) أبو أسيد ھو أسيد بن أبي أسيد
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الدعوات 117 (3575)، سنن النسائی/الاستعاذة (5430)، (تحفة الأشراف: 5250) (حسن)