📖 سنن أبي داود • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن أبي داود

Sunan Abi Dawud (سُنَنُ أَبِي دَاوُدَ)
📁 کتاب: آداب و اخلاق کا بیان (كِتَاب الْأَدَبِ) 🏷️ باب: باب: چھینکنے والے کا جواب کیسے دے؟
عربی:
اردو:
سنن أبي داود حدیث نمبر: 5031 Sunan Abi Dawud 5031
کتاب #43: کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
99: باب كَيْفَ تَشْمِيتُ الْعَاطِسِ
باب: چھینکنے والے کا جواب کیسے دے؟
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، قَالَ: " كُنَّا مَعَ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ، فَعَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ , فَقَالَ سَالِمٌ: وَعَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ، ثُمَّ قال بَعْدُ: لَعَلَّكَ وَجَدْتَ مِمَّا قُلْتُ لَكَ , قال: لَوَدِدْتُ أَنَّكَ لَمْ تَذْكُرْ أُمِّي بِخَيْرٍ وَلَا بِشَرٍّ , قال: إِنَّمَا قُلْتُ لَكَ كَمَا قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ , فقال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَعَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ، ثُمَّ قَالَ: إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ , قال: فَذَكَرَ بَعْضَ الْمَحَامِدِ، وَلْيَقُلْ لَهُ مَنْ عِنْدَهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، وَلْيَرُدَّ يَعْنِي عَلَيْهِمْ: يَغْفِرُ اللَّهُ لَنَا وَلَكُمْ".
ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ ہم سالم بن عبید کے ساتھ تھے کہ ایک شخص کو چھینک آئی تو اس نے کہا «السلام عليكم» (تم پر سلامتی ہو) تو سالم نے کہا: «عليك وعلى أمك» (تم پر بھی اور تمہاری ماں پر بھی) پھر تھوڑی دیر کے بعد بولے: شاید جو بات میں نے تم سے کہی تمہیں ناگوار لگی، اس نے کہا: میری خواہش تھی کہ آپ میری ماں کا ذکر نہ کرتے، نہ خیر کے ساتھ نہ شر کے ساتھ، وہ بولے، میں نے تم سے اسی طرح کہا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا، اسی دوران کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے اچانک لوگوں میں سے ایک شخص کو چھینک آئی تو اس نے کہا: «السلام عليكم» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عليك وعلى أمك» ، پھر آپ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو «الحمد الله» کہے اللہ کی تعریف کرے پھر آپ نے حمد کے بعض کلمات کا تذکرہ کیا (جو چھینک آنے والا کہے) اور چاہیئے کہ وہ جو اس کے پاس ہو «يرحمك الله» (اللہ تم پر رحم کرے) کہے، اور چاہیئے کہ وہ (چھینکنے والا) ان کو پھر جواب دے، «يغفر الله لنا ولكم» (اللہ ہماری اور آپ کی مغفرت فرمائے)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5031]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف ¤ ترمذي (2740) ¤ قال الحاكم:”الوھم في رواية جرير (بن عبدالحميد) ھذا ظاهر،فإن ھلال بن يساف لم يدرك سالم بن عبيد ولم يره وبينھما رجل مجهول“ (المستدرك 267/4) ¤ فالسند معلول ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 174
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الأدب 3 (2740)، النسائی في الکبری 10053، وعمل الیوم واللیلة 86 (225)، (تحفة الأشراف: 3786)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/7) (ضعیف) (سند میں ہلال بن یساف اور سالم بن عبید کے درمیان ایک راوی ساقط ہے، اور عمل الیوم واللیلة (229) سے ظاہر ہوتا ہے کہ دو راوی ساقط ہیں اور دونوں مبہم ہیں، مؤلف کی آگے آنے والی روایت (5032) سے ایک راوی خالد بن عرفجہ کا ساقط ہونا ظاہر ہوتا ہے، انہی اختلافات کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے)
سنن أبي داود • حدیث #5031
5029 5030 5031 5032 5033

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#5032 حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ...
اس سند سے سالم بن عبید اشجعی سے یہی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً مروی ہے۔ [سنن ابي دا...
#5033 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَ...
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ