سنن أبي داود حدیث نمبر: 5028
Sunan Abi Dawud 5028
کتاب #43: کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
97: باب مَا جَاءَ فِي التَّثَاؤُبِ
باب: جمائی لینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ، فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ، وَلَا يَقُلْ هَاهْ هَاهْ، فَإِنَّمَا ذَلِكُمْ مِنَ الشَّيْطَانِ يَضْحَكُ مِنْهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند، لہٰذا جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے، تو جہاں تک ہو سکے اسے روکے رہے، اور ہاہ ہاہ نہ کہے، اس لیے کہ یہ شیطان کی طرف سے ہوتی ہے، وہ اس پر ہنستا ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5028]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (6226)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/بدء الخلق 11 (3289)، الأدب 125 (6223)، 126 (6262)، سنن الترمذی/الصلاة 6 15 (370)، الأدب 7 (2747)، (تحفة الأشراف: 14322)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الزہد والرقاق 9 (2995)، مسند احمد (2 /265، 428، 517) (صحیح)