سنن أبي داود حدیث نمبر: 5000
Sunan Abi Dawud 5000
کتاب #43: کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
92: باب مَا جَاءَ فِي الْمِزَاحِ
باب: ہنسی مذاق (مزاح) کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَلَاءِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: " أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ، فَسَلَّمْتُ، فَرَدَّ وَقَالَ: ادْخُلْ , فَقُلْتُ: أَكُلِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ , قال: كُلُّكَ فَدَخَلْتُ".
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ چمڑے کے ایک خیمے میں قیام پذیر تھے، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے جواب دیا، اور فرمایا: ”اندر آ جاؤ“ تو میں نے کہا کہ پورے طور سے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”پورے طور سے“ چنانچہ میں اندر چلا گیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5000]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (3176) ¤ مشكوة المصابيح (4890)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجزیة 15 (3176)، سنن ابن ماجہ/الفتن 42 (4042)، (تحفة الأشراف: 19003، 10918)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/22) (صحیح)