📖 سنن أبي داود • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن أبي داود

Sunan Abi Dawud (سُنَنُ أَبِي دَاوُدَ)
📁 کتاب: آداب و اخلاق کا بیان (كِتَاب الْأَدَبِ) 🏷️ باب: باب: الفاظ کے استعمال میں توسع کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن أبي داود حدیث نمبر: 4988 Sunan Abi Dawud 4988
کتاب #43: کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
87: باب مَا رُوِيَ فِي التَّرْخِيصِ، فِي ذَلِكَ
باب: الفاظ کے استعمال میں توسع کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ، فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ، فَقَالَ: مَا رَأَيْنَا شَيْئًا أَوْ مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَعٍ وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مدینہ میں ایک بار (دشمن کا) خوف ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوطلحہ کے گھوڑے پر سوار ہو کر نکلے، (واپس آئے تو) فرمایا: ہم نے تو کوئی چیز نہیں دیکھی، یا ہم نے کوئی خوف نہیں دیکھا اور ہم نے اسے (گھوڑے کو) سمندر (سبک رفتار) پایا ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4988]
💡 وضاحت:
۱؎: گویا کسی چیز کو کسی دوسری چیز سے تشبیہ دی جا سکتی ہے، اگرچہ ان دونوں میں کلی طور پر اشتراک نہ ہو صرف جزوی اشتراک ہو، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے کو محض سبک رفتاری میں اشتراک کی وجہ سے بحر(سمندر) سے تشبیہ دی،اسی طرح نماز عشاء کو عتمہ سے تشبیہ دی جا سکتی ہے، کیونکہ یہ عتمہ یعنی تاریکی میں پڑھی جاتی ہے، اس استدلال سے محض تکلف ظاہر ہوتا ہے، اس باب میں زیادہ موزوں اور واضح استدلال ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وہ روایت ہے جس کی تخریج بخاری، مسلم اور ترمذی نے کی ہے، اور جس میں یہ الفاظ وارد ہیں: «ولو يعلمون ما في العتمة والصبح لأتوهما ولو حبوا» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2627) صحيح مسلم (2307)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الھبة 33 (2627)، صحیح مسلم/الفضائل 11 (2307)، سنن الترمذی/الجہاد 14 (1685)، (تحفة الأشراف: 1238)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجہاد 9 (2772)، مسند احمد (3، 170، 180، 274، 291) (صحیح)
سنن أبي داود • حدیث #4988
4986 4987 4988 4989 4990
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ