سنن أبي داود حدیث نمبر: 4975
Sunan Abi Dawud 4975
کتاب #43: کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
83: باب لاَ يَقُولُ الْمَمْلُوكُ " رَبِّي وَرَبَّتِي "
باب: غلام یا لونڈی اپنے آقا یا مالکن کے لیے «رب» کا لفظ استعمال نہ کریں۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ , وَحَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ , وَهِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: عَبْدِي وَأَمَتِي، وَلَا يَقُولَنَّ الْمَمْلُوكُ: رَبِّي وَرَبَّتِي، وَلْيَقُلِ الْمَالِكُ: فَتَايَ وَفَتَاتِي، وَلْيَقُلِ الْمَمْلُوكُ: سَيِّدِي وَسَيِّدَتِي، فَإِنَّكُمُ الْمَمْلُوكُونَ، وَالرَّبُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی (اپنے غلام یا لونڈی کو) «عبدي» (میرا بندہ) اور «أمتي» (میری بندی) نہ کہے اور نہ کوئی غلام یا لونڈی (اپنے آقا کو) «ربي» (میرے مالک) اور «ربتي» (میری مالکن) کہے بلکہ مالک یوں کہے: میرے جوان! یا میری جوان! اور غلام اور لونڈی یوں کہیں: «سيدي» (میرے آقا) اور «سيدتي» (میری مالکن) اس لیے کہ تم سب مملوک ہو اور رب صرف اللہ ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4975]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14429، 14459، 14523)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العتق 17 (2552)، صحیح مسلم/الألفاظ من الأدب 3 (2249)، مسند احمد (2/423، 463، 484، 491، 508) (صحیح)