سنن أبي داود حدیث نمبر: 4965
Sunan Abi Dawud 4965
کتاب #43: کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
74: باب فِي الرَّجُلِ يَتَكَنَّى بِأَبِي الْقَاسِمِ
باب: آدمی اپنی کنیت ابوالقاسم رکھے تو کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي" , قَالَ أبو داود: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَكَذَلِكَ رِوَايَةُ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ , وَسَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ جَابِرٍ , وَسُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ , عَنْ جَابِرٍ , وَابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ , نَحْوَهُمْ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت نہ رکھو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوصالح نے ابوہریرہ سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور اسی طرح ابوسفیان، سالم بن ابی الجعد، سلیمان یشکری اور ابن منکدر وغیرہ کی روایتیں بھی ہیں جو جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں، اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت بھی اسی طرح ہے (یعنی اس میں بھی یہی ہے کہ میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4965]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (6188) صحيح مسلم (2134)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/العلم 38 (110)، المناقب 20 (3539)، الأدب 106 (6188)، صحیح مسلم/الأداب 1 (2134)، سنن ابن ماجہ/الأدب 33 (3735)، (تحفة الأشراف: 14434)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/248، 260، 270)، سنن الدارمی/الاستئذان 58 (2735) (صحیح)