سنن أبي داود حدیث نمبر: 496
Sunan Abi Dawud 496
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
26: باب مَتَى يُؤْمَرُ الْغُلاَمُ بِالصَّلاَةِ
باب: بچے کو نماز پڑھنے کا حکم کب دیا جائے؟
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ سَوَّارٍ الْمُزَنِيُّ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، وَزَادَ: وَإِذَا زَوَّجَ أَحَدُكُمْ خَادِمَهُ عَبْدَهُ أَوْ أَجِيرَهُ، فَلَا يَنْظُرْ إِلَى مَا دُونَ السُّرَّةِ وَفَوْقَ الرُّكْبَةِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهِمَ وَكِيعٌ فِي اسْمِهِ، وَرَوَى عَنْهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ سَوَّارٌ الصَّيْرَفِيُّ.
داود بن سوار مزنی سے اس سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اس میں انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ ”جب کوئی شخص اپنی لونڈی کی اپنے غلام یا مزدور سے شادی کر دے تو پھر وہ اس لونڈی کی ناف کے نیچے اور گھٹنوں کے اوپر نہ دیکھے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وکیع کو داود بن سوار کے نام میں وہم ہوا ہے۔ ابوداود طیالسی نے بھی یہ حدیث انہیں سے روایت کی ہے اور اس میں «حدثنا أبو حمزة سوار الصيرفي» ہے (یعنی ان کے نزدیک بھی صحیح سوار بن داود ہے)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 496]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ وأخرجه أحمد (2/180،182) وسنده حسن والحديث السابق (494) شاھد له
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 8717) (حسن)