سنن أبي داود حدیث نمبر: 4927
Sunan Abi Dawud 4927
کتاب #43: کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
60: باب كَرَاهِيَةِ الْغِنَاءِ وَالزَّمْرِ
باب: گانے بجانے کی کراہت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ، عَنْ شَيْخٍ شَهِدَ أَبَا وَائِلٍ فِي وَلِيمَةٍ فَجَعَلُوا يَلْعَبُونَ يَتَلَعَّبُونَ يُغَنُّونَ، فَحَلَّ أَبُو وَائِلٍ حَبْوَتَهُ، وَقَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْغِنَاءُ يُنْبِتُ النِّفَاقَ فِي الْقَلْبِ".
سلام بن مسکین ایک شیخ سے روایت کرتے ہیں جو ابووائل کے ساتھ ایک ولیمہ میں موجود تھے تو لوگ کھیل کود اور گانے بجانے میں لگے گئے، تو ابووائل نے اپنا حبوہ ۱؎ کھولا اور بولے: میں نے عبداللہ بن مسعود کو کہتے سنا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: گانا بجانا دل میں نفاق پیدا کرتا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4927]
💡 وضاحت:
۱؎: بیٹھنے کی ایک مخصوص ہیئت کا نام ہے جس میں آدمی سرین کے بل پاؤں کھڑا کر کے بیٹھتا اور دونوں ہاتھوں سے اپنے گھٹنے باندھ لیتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ شيخ سلام بن مسكين: مجهول،لم أجد من وثقه ¤ والحديث ضعفه البيهقي في شعب الإيمان (5099) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 172
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9315) (ضعیف)