سنن أبي داود حدیث نمبر: 4921
Sunan Abi Dawud 4921
کتاب #43: کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
58: باب فِي إِصْلاَحِ ذَاتِ الْبَيْنِ
باب: میل جول اور مصالحت کرانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْجِيزِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ نَافِعٍ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ الْهَادِي، أَنَّ عَبْدَ الْوَهَّابِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ حَدَّثَهُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ، قَالَتْ: " مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَخِّصُ فِي شَيْءٍ مِنَ الْكَذِبِ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا أَعُدُّهُ كَاذِبًا: الرَّجُلُ يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ , يَقُولُ الْقَوْلَ وَلَا يُرِيدُ بِهِ إِلَّا الْإِصْلَاحَ، وَالرَّجُلُ يَقُولُ فِي الْحَرْبِ، وَالرَّجُلُ يُحَدِّثُ امْرَأَتَهُ وَالْمَرْأَةُ تُحَدِّثُ زَوْجَهَا".
ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بات میں جھوٹ بولنے کی اجازت دیتے نہیں سنا، سوائے تین باتوں کے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: میں اسے جھوٹا شمار نہیں کرتا، ایک یہ کہ کوئی لوگوں کے درمیان صلح کرائے اور کوئی بات بنا کر کہے، اور اس کا مقصد اس سے صرف صلح کرانی ہو، دوسرے یہ کہ ایک شخص جنگ میں کوئی بات بنا کر کہے، تیسرے یہ کہ ایک شخص اپنی بیوی سے کوئی بات بنا کر کہے اور بیوی اپنے شوہر سے کوئی بات بنا کر کہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4921]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ انظر الحديث السابق (4920)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 18353) (صحیح)