سنن أبي داود حدیث نمبر: 4906
Sunan Abi Dawud 4906
کتاب #43: کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
53: باب فِي اللَّعْنِ
باب: لعنت کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَلَاعَنُوا بِلَعْنَةِ اللَّهِ وَلَا بِغَضَبِ اللَّهِ وَلَا بِالنَّارِ".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی لعنت یا اللہ کا غضب یا جہنم کی لعنت کسی پر نہ کیا کرو ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4906]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی یوں نہ کہو: تجھ پر اللہ کی لعنت ہو، یا اللہ کا غضب ہو، یااللہ تجھے جہنم میں داخل کرے، یہ ممانعت اس صورت کے ساتھ مخصوص ہے کہ آدمی کسی معین شخص پر لعنت بھیجے، اور اگر کسی وصف عام یا وصف خاص کے ساتھ لعنت بھیج رہا ہو مثلاً یوں کہے «لعنة الله على الكافرين» ، یا «لعنة الله على اليهود» ، یا کسی ایسے متعین کافر پر لعنت بھیج رہا ہو جس کا کفر کی حالت میں مرنا معلوم ہو تو یہ جائز ہے جیسے «لعنة الله على الكافرين» ، یا «لعنة الله على أبي جهل» کہنا۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1976) ¤ قتادة عنعن ¤ ولحديثه شاهد مرسل عند عبد الرزاق (المصنف: 19531) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 171
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/البر والصلة 48 (1976)، (تحفة الأشراف: 4594)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/15) (حسن)