سنن أبي داود حدیث نمبر: 488
Sunan Abi Dawud 488
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
23: باب مَا جَاءَ فِي الْمُشْرِكِ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ
باب: مشرک مسجد میں داخل ہو اس کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ مُزَيْنَةَ وَنَحْنُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " الْيَهُودُ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ فِي أَصْحَابِهِ، فَقَالُوا: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فِي رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ زَنَيَا مِنْهُمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ مسجد میں اپنے اصحاب میں بیٹھے ہوئے تھے تو ان یہودیوں نے کہا: اے ابوالقاسم! ہم ایک مرد اور ایک عورت کے سلسلے میں جنہوں نے زنا کر لیا ہے ۱؎ آئے ہیں (تو ان کے سلسلہ میں کیا حکم ہے؟)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 488]
💡 وضاحت:
۱؎: باب کی ان حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ کافر بوقت ضرورت مسجد میں داخل ہو سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ رجل من مزينة: لم أعرفه ¤ وانظر الحديث الآتي (3624،4450) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 31
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15492)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/279)ویأتی ہذا الحدیث فی الأقضیة برقم (3624،3625)، وفی الحدود برقم (4450، 4451) (ضعیف) (رجل مزینہ مجہول ہے)