سنن أبي داود حدیث نمبر: 4875
Sunan Abi Dawud 4875
کتاب #43: کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
40: باب فِي الْغِيبَةِ
باب: غیبت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَسْبُكَ مِنْ صَفِيَّةَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: غَيْرُ مُسَدَّدٍ تَعْنِي قَصِيرَةً، فَقَالَ لَقَدْ قُلْتِ كَلِمَةً لَوْ مُزِجَتْ بِمَاءِ الْبَحْرِ لَمَزَجَتْهُ , قَالَتْ: وَحَكَيْتُ لَهُ إِنْسَانًا، فَقَالَ: مَا أُحِبُّ أَنِّي حَكَيْتُ إِنْسَانًا وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپ کے لیے تو صفیہ رضی اللہ عنہا کا یہ اور یہ عیب ہی کافی ہے، یعنی پستہ قد ہونا تو آپ نے فرمایا: ”تم نے ایسی بات کہی ہے کہ اگر وہ سمندر کے پانی میں گھول دی جائے تو وہ اس پر بھی غالب آ جائے“ اور میں نے ایک شخص کی نقل کی تو آپ نے فرمایا: ”مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میں کسی انسان کی نقل کروں اگرچہ میرے لیے اتنا اور اتنا (مال) ہو“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4875]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (4853) ¤ أخرجه الترمذي (2502 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/صفة القیامة 51 (2502، 2503)، (تحفة الأشراف: 16132)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/128، 136، 189، 206) (صحیح)