سنن أبي داود حدیث نمبر: 4810
Sunan Abi Dawud 4810
کتاب #43: کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
11: باب فِي الرِّفْقِ
باب: نرمی کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، عَنِ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ الْأَعْمَشُ: وَقَدْ سَمِعْتُهُمْ يَذْكُرُونَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ الْأَعْمَشُ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: التُّؤَدَةُ فِي كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا فِي عَمَلِ الْآخِرَةِ".
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تاخیر اور آہستگی ہر چیز میں (بہتر) ہے، سوائے آخرت کے عمل کے ۱؎۔ اعمش کہتے ہیں میں یہی جانتا ہوں کہ یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے یعنی مرفوع ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4810]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ نیک کاموں میں تاخیر اور التواء «سارعوا إلى مغفرة من ربكم» کے منافی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ الأعمش عنعن ولم أجد تصريح سماعه والمدلس إذا عنعن لا يحتج به عند الشافعي (الرسالة ص380 فقرة 1035،ص 379 فقرة: 1033) وغيره وھو الصواب ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 167
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3941) (صحیح)