سنن أبي داود حدیث نمبر: 4745
Sunan Abi Dawud 4745
کتاب #42: کتاب: سنتوں کا بیان
27: باب فِي الْمَسْأَلَةِ فِي الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ
باب: قبر میں سوال کئے جانے اور قبر کے عذاب کا بیان۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: أخبرنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا، مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْهِ كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ وَأَذْرُحَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے سامنے (قیامت کے دن) ایک حوض ہو گا، جس کے دونوں کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا «جرباء» اور «اذرح» ۱؎ کے درمیان ہے ۲؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4745]
💡 وضاحت:
۱؎: «جرباء» اور «اذرح» نام ہیں شام میں دو گاؤں کے ان کے درمیان تین دن کی مسافت کا فاصلہ ہے۔
۲؎: حوض کے حدود کے بارے میں مختلف بیانات وارد ہیں، ان سے تحدید مقصود نہیں بلکہ مسافت کا طول مراد ہے۔
۲؎: حوض کے حدود کے بارے میں مختلف بیانات وارد ہیں، ان سے تحدید مقصود نہیں بلکہ مسافت کا طول مراد ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (2299) ¤ وأصله عند البخاري (6577)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الفضائل 9 (2299)، (تحفة الأشراف: 7538)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الرقاق 53 (6577)، مسند احمد (2/21، 6/125) (صحیح)