سنن أبي داود حدیث نمبر: 4739
Sunan Abi Dawud 4739
کتاب #42: کتاب: سنتوں کا بیان
23: باب فِي الشَّفَاعَةِ
باب: شفاعت کا بیان۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، أخبرنا بَسْطَامُ بْنُ حُرَيْثٍ، عَنْ أَشْعَثَ الْحُدَّانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری شفاعت ۱؎ میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ہے ۲؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4739]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ باب خوارج اور بعض معتزلہ کے رد میں ہے جو شفاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر ہیں، اہل حدیث و اہل سنت شفاعت کے قائل ہیں۔
۲؎: یعنی جن لوگوں کے کبیرہ گناہ ان کے جنت میں جانے سے مانع ہوں گے جبکہ وہ موحد تھے تو ان کے لئے میری شفاعت جنت میں جانے کا ذریعہ ہو گی، لیکن یہ شفاعت اللہ کے حکم اور اس کے اِذْن سے ہوگی جیسا کہ آیت الکرسی میں نیز اس آیت میں ہے «يومئذ لا تنفع الشفاعة إلا من أذن له الرحمن ورضي له قولا» (سورۃ طہ: ۱۰۹) کسی مشرک کو شفاعت نصیب نہ ہو گی، اس لئے ہر آدمی کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ وہ شرک و بدعت کو سمجھے، اور اس بات کی پوری کوشش کرے کہ وہ ان سب سے دور رہے، اور دوسرے لوگوں کو بھی اس سے بچائے، تا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا مستحق ہو۔
۲؎: یعنی جن لوگوں کے کبیرہ گناہ ان کے جنت میں جانے سے مانع ہوں گے جبکہ وہ موحد تھے تو ان کے لئے میری شفاعت جنت میں جانے کا ذریعہ ہو گی، لیکن یہ شفاعت اللہ کے حکم اور اس کے اِذْن سے ہوگی جیسا کہ آیت الکرسی میں نیز اس آیت میں ہے «يومئذ لا تنفع الشفاعة إلا من أذن له الرحمن ورضي له قولا» (سورۃ طہ: ۱۰۹) کسی مشرک کو شفاعت نصیب نہ ہو گی، اس لئے ہر آدمی کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ وہ شرک و بدعت کو سمجھے، اور اس بات کی پوری کوشش کرے کہ وہ ان سب سے دور رہے، اور دوسرے لوگوں کو بھی اس سے بچائے، تا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا مستحق ہو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ مشكوة المصابيح (5598) ¤ وللحديث طرق عند الترمذي (2435) وغيره
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 231)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/213) (صحیح)