سنن أبي داود حدیث نمبر: 4701
Sunan Abi Dawud 4701
کتاب #42: کتاب: سنتوں کا بیان
17: باب فِي الْقَدَرِ
باب: تقدیر (قضاء و قدر) کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ الْمَعْنَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ طَاوُسًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يُخْبِرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " احْتَجَّ آدَمُ، وَمُوسَى، فَقَالَ مُوسَى: يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُونَا خَيَّبْتَنَا وَأَخْرَجْتَنَا مِنَ الْجَنَّةِ، فَقَالَ آدَمُ: أَنْتَ مُوسَى اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلَامِهِ، وَخَطَّ لَكَ التَّوْرَاةَ بِيَدِهِ تَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدَّرَهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً، فَحَجَّ آدَمُ، مُوسَى"، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدم اور موسیٰ نے بحث کی تو موسیٰ نے کہا: اے آدم! آپ ہمارے باپ ہیں، آپ ہی نے ہمیں محرومی سے دو چار کیا، اور ہمیں جنت سے نکلوایا، آدم نے کہا: تم موسیٰ ہو تمہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی گفتگو کے لیے چن لیا، اور تمہارے لیے تورات کو اپنے ہاتھ سے لکھا، تم مجھے ایسی بات پر ملامت کرتے ہو جسے اس نے میرے لیے مجھے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے ہی لکھ دیا تھا، پس آدم موسیٰ پر غالب آ گئے“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4701]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ بحث و تکرار اللہ کے سامنے ہوئی جیسا کہ مسلم کی روایت میں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (4614) صحيح مسلم (2652)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 31 (3409)، القدر 11 (6614)، صحیح مسلم/القدر 2 (2652)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 10(80)، (تحفة الأشراف: 13529)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/القدر 2 (2134)، موطا امام مالک/القدر 1 (1)، مسند احمد (2/248، 268) (صحیح)