سنن أبي داود حدیث نمبر: 4685
Sunan Abi Dawud 4685
کتاب #42: کتاب: سنتوں کا بیان
16: باب الدَّلِيلِ عَلَى زِيَادَةِ الإِيمَانِ وَنُقْصَانِهِ
باب: ایمان کی کمی اور زیادتی کے دلائل کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ. ح وحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ قَسْمًا فَقُلْتُ أَعْطِ فُلَانًا، فَإِنَّهُ مُؤْمِنٌ، قَالَ: أَوْ مُسْلِمٌ إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ الْعَطَاءَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ مَخَافَةَ أَنْ يُكَبَّ عَلَى وَجْهِهِ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں میں کچھ تقسیم فرمایا تو میں نے عرض کیا: فلاں کو بھی دیجئیے، وہ بھی مومن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا مسلم ہے، میں ایک شخص کو کچھ عطا کرتا ہوں حالانکہ اس کے علاوہ دوسرا مجھے اس سے زیادہ محبوب ہوتا ہے (جس کو نہیں دیتا) اس اندیشے سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں اس کو نہ دوں تو وہ اوندھے منہ (جہنم میں) ڈال دیا جائے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4685]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (27) صحيح مسلم (150) ¤ وانظر الحديث السابق (4683)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: (4683)، (تحفة الأشراف: 3891) (صحیح)