سنن أبي داود حدیث نمبر: 4679
Sunan Abi Dawud 4679
کتاب #42: کتاب: سنتوں کا بیان
15: باب فِي رَدِّ الإِرْجَاءِ
باب: ارجاء کی تردید کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: " مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَلَا دِينٍ أَغْلَبَ لِذِي لُبٍّ مِنْكُنَّ، قَالَتْ: وَمَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ وَالدِّينِ؟ قَالَ: أَمَّا نُقْصَانُ الْعَقْلِ: فَشَهَادَةُ امْرَأَتَيْنِ شَهَادَةُ رَجُلٍ، وَأَمَّا نُقْصَانُ الدِّينِ: فَإِنَّ إِحْدَاكُنَّ تُفْطِرُ رَمَضَانَ وَتُقِيمُ أَيَّامًا لَا تُصَلِّي".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عقل اور دین میں ناقص ہوتے ہوئے عقل والے پر غلبہ پانے والا میں نے تم عورتوں سے زیادہ کسی کو نہیں دیکھا“ (ایک عورت) نے کہا: عقل اور دین میں کیا نقص ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عقل کا نقص تو یہ ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر ہوتی ہے، اور دین کا نقص یہ ہے کہ (حیض و نفاس میں) تم میں کوئی نہ روزے رکھتی ہے اور نہ نماز پڑھتی ہے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4679]
💡 وضاحت:
۱؎: چونکہ اعمال ایمان میں داخل ہیں اس مدت میں نماز و روزے کے ترک سے ایمان میں نقص ثابت ہوا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (79)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الإیمان 34 (79)، سنن ابن ماجہ/الفتن 19 (4003)، (تحفة الأشراف: 7261)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/66) (صحیح)