سنن أبي داود حدیث نمبر: 4657
Sunan Abi Dawud 4657
کتاب #42: کتاب: سنتوں کا بیان
10: باب فِي فَضْلِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا. ح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِينَ بُعِثْتُ فِيهِمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَذَكَرَ الثَّالِثَ أَمْ لَا، ثُمَّ يَظْهَرُ قَوْمٌ يَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ، وَيَنْذِرُونَ وَلَا يُوفُونَ، وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ، وَيَفْشُو فِيهِمُ السِّمَنُ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جن میں مجھے مبعوث کیا گیا، پھر وہ جو ان سے قریب ہیں، پھر وہ جو ان سے قریب ہیں“ اللہ ہی زیادہ جانتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسرے کا ذکر کیا یا نہیں، ”پھر کچھ لوگ رونما ہوں گے جو بلا گواہی طلب کئے گواہی دیتے پھریں گے، نذر مانیں گے لیکن پوری نہ کریں گے، خیانت کرنے لگیں گے جس سے ان پر سے بھروسہ اٹھ جائے گا، اور ان میں موٹاپا عام ہو گا ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4657]
💡 وضاحت:
وضاحت ۱؎: کیونکہ جواب دہی کا خوف ان کے دلوں سے جاتا رہے گا، عیش وآرام کے عادی ہو جائیں گے اور دین و ایمان کی فکر جاتی رہے گی جو ان کے مٹاپے کا سبب ہوگی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (2535) ¤ ورواه البخاري (2651) من طريق آخر
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/فضائل الصحابة 52 (2535)، سنن الترمذی/الفتن 45 (2222)، الشھادات 4، (2302)، (تحفة الأشراف: 10824)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الشہادات 9 (2651)، فضائل الصحابة 1 (3650)، الرقاق 7 (6428)، الأیمان 7 (6695)، سنن النسائی/الأیمان والنذور 28 (3840)، مسند احمد (4/426، 427، 436، 440) (صحیح)