سنن أبي داود حدیث نمبر: 4630
Sunan Abi Dawud 4630
کتاب #42: کتاب: سنتوں کا بیان
8: باب فِي التَّفْضِيلِ
باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سب افضل کون ہے پھر اس کے بعد کون ہے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي الْفِرْيَابِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ، يَقُولُ: " مَنْ زَعَمَ أَنَّ عَلِيًّا عَلَيْهِ السَّلَام كَانَ أَحَقَّ بِالْوِلَايَةِ مِنْهُمَا فَقَدْ خَطَّأَ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَالْمُهَاجِرِينَ، وَالْأَنْصَارَ، وَمَا أُرَاهُ يَرْتَفِعُ لَهُ مَعَ هَذَا عَمَلٌ إِلَى السَّمَاءِ".
سفیان کہتے تھے: جو یہ کہے کہ علی رضی اللہ عنہ ان دونوں (ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ) سے خلافت کے زیادہ حقدار تھے تو اس نے ابوبکر، عمر، مہاجرین اور انصار کو خطاکار ٹھہرایا، اور میں نہیں سمجھتا کہ اس کے اس عقیدے کے ہوتے ہوئے اس کا کوئی عمل آسمان کو اٹھ کر جائے گا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4630]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18766) (صحیح الإسناد)