سنن أبي داود حدیث نمبر: 4585
Sunan Abi Dawud 4585
کتاب #41: کتاب: دیتوں کا بیان
24: باب فِي الرَّجُلِ يُقَاتِلُ الرَّجُلَ فَيَدْفَعُهُ عَنْ نَفْسِهِ
باب: ایک شخص دوسرے سے لڑے اور دوسرا اپنا دفاع کرے تو اس پر سزا نہ ہو گی۔
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ بِهَذَا، زَادَ: ثُمّ قَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَاضِّ: إِنْ شِئْتَ أَنْ تُمَكِّنَهُ مِنْ يَدِكَ فَيَعَضُّهَا ثُمَّ تَنْزِعُهَا مِنْ فِيهِ وَأَبْطَلَ دِيَةَ أَسْنَانِهِ.
اس سند سے بھی یعلیٰ بن امیہ سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اتنا اضافہ ہے ”پھر آپ نے (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے) دانت کاٹنے والے سے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو یہ ہو سکتا ہے کہ تم بھی اپنا ہاتھ اس کے منہ میں دے دو وہ اسے کاٹے پھر تم اسے اس کے منہ سے کھینچ لو“ اور اس کے دانتوں کی دیت باطل قرار دے دی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4585]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ انظر الحديث السابق (4584)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 11846) (صحیح الإسناد)