سنن أبي داود حدیث نمبر: 458
Sunan Abi Dawud 458
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
15: باب فِي حَصَى الْمَسْجِدِ
باب: مسجد کی کنکریوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ تَمَّامِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سُلَيْمٍ الْبَاهِلِيُّ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْحَصَى الَّذِي فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: "مُطِرْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ فَأَصْبَحَتِ الْأَرْضُ مُبْتَلَّةً فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَأْتِي بِالْحَصَى فِي ثَوْبِهِ فَيَبْسُطُهُ تَحْتَهُ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ: مَا أَحْسَنَ هَذَا".
ابوالولید سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مسجد کی کنکریوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: ایک رات بارش ہوئی، زمین گیلی ہو گئی تو لوگ اپنے کپڑوں میں کنکریاں لا لا کر اپنے نیچے بچھانے لگے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو فرمایا: ”کتنا اچھا کام ہے یہ“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 458]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ أبو الوليد: مجهول (تقريب: 8439) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 30
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8594) (ضعیف) (اس کے راوی ”ابوالولید“ مجہول ہیں)