سنن أبي داود حدیث نمبر: 4522
Sunan Abi Dawud 4522
کتاب #41: کتاب: دیتوں کا بیان
8: باب الْقَسَامَةِ
باب: قسامہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا. ح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّهُ قَتَلَ بِالْقَسَامَةِ رَجُلًا مِنْ بَنِي نَصْرِ بْنِ مَالِكٍ بِبَحْرَةِ الرُّغَاءِ عَلَى شَطِّ لِيَّةِ الْبَحْرَةِ، قَالَ: الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ مِنْهُمْ"، وَهَذَا لَفْظُ مَحْمُودٍ بِبَحْرَةٍ، أَقَامَهُ مَحْمُودٌ وَحْدَهُ عَلَى شَطِّ لِيَّةَ.
عمرو بن شعیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے قسامہ سے بنی نصر بن مالک کے ایک آدمی کو بحرۃالرغاء ۱؎ میں لیۃالبحرہ ۲؎ کے کنارے پر قتل کیا، راوی کہتے ہیں: قاتل اور مقتول دونوں بنی نصر کے تھے، «ببحرة الرغاء على شطر لية البحر» کے یہ الفاظ محمود کے ہیں اور محمود اس حدیث کے سلسلہ میں سب سے زیادہ درست آدمی ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4522]
💡 وضاحت:
۱؎: ایک جگہ کا نام ہے۔
۲؎: ایک وادی کا نام ہے۔
۲؎: ایک وادی کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف معضل
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ السند مرسل ¤ والوليد مدلس و عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 159
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19173) (ضعیف) (اس سند میں عمرو بن شعیب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، عموماً وہ اپنے والد اور ان کے والد عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت کرتے ہیں، اس لئے سند میں اعضال ہیں یعنی مسلسل دو راوی ایک جگہ سے ساقط ہیں)