سنن أبي داود حدیث نمبر: 4519
Sunan Abi Dawud 4519
کتاب #41: کتاب: دیتوں کا بیان
7: باب مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ أَوْ مَثَّلَ بِهِ أَيُقَادُ مِنْهُ
باب: جو شخص اپنے غلام کو قتل کر دے یا اس کے اعضاء کاٹ لے تو کیا اس سے قصاص لیا جائے گا؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا سَوَّارٌ أَبُو حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: " جَاءَ رَجُلٌ مُسْتَصْرِخٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: جَارِيَةٌ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: وَيْحَكَ مَا لَكَ؟ قَالَ: شَرًّا أَبْصَرَ لِسَيِّدِهِ جَارِيَةً لَهُ فَغَارَ فَجَبَّ مَذَاكِيرَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَيَّ بِالرَّجُلِ، فَطُلِبَ فَلَمْ يُقْدَرْ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى مَنْ نُصْرَتِي؟ قَالَ: عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ، أَوْ قَالَ: كُلِّ مُسْلِمٍ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: الَّذِي عُتَقَ كَانَ اسْمُهُ رَوْحُ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: الَّذِي جَبَّهُ زِنْبَاعٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا زِنْبَاعٌ أَبُو رَوْحٍ كَانَ مَوْلَى الْعَبْدِ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص چیختا چلاتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! اس کی ایک لونڈی تھی، آپ نے فرمایا: ”ستیاناس ہو تمہارا، بتاؤ کیا ہوا؟“ اس نے کہا: برا ہوا، میرے آقا کی ایک لونڈی تھی اسے میں نے دیکھ لیا، تو اسے غیرت آئی، اس نے میرا ذکر کٹوا دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کو میرے پاس لاؤ“ تو اسے بلایا گیا، مگر کوئی اسے نہ لا سکا تب آپ نے (اس غلام سے) فرمایا: ”جاؤ تم آزاد ہو“ اس نے کہا: اللہ کے رسول! میری مدد کون کرے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہر مومن پر“ یا کہا: ”ہر مسلمان پر تیری مدد لازم ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جو آزاد ہوا اس کا نام روح بن دینار تھا، اور جس نے ذکر کاٹا تھا وہ زنباع تھا، یہ زنباع ابوروح ہیں جو غلام کے آقا تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4519]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ أخرجه ابن ماجه (2680 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الدیات 29 (2680)، (تحفة الأشراف: 8716، 4586)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/182، 225) (حسن)