سنن أبي داود حدیث نمبر: 4504
Sunan Abi Dawud 4504
کتاب #41: کتاب: دیتوں کا بیان
4: باب وَلِيِّ الْعَمْدِ يَأْخُذُ الدِّيَةَ
باب: مقتول کا وارث دیت لینے پر راضی ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا شُرَيْحٍ الْكَعْبِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا إِنَّكُمْ يَا مَعْشَرَ خُزَاعَةَ قَتَلْتُمْ هَذَا الْقَتِيلَ مِنْ هُذَيْلٍ وَإِنِّي عَاقِلُهُ، فَمَنْ قُتِلَ لَهُ بَعْدَ مَقَالَتِي هَذِهِ قَتِيلٌ فَأَهْلُهُ بَيْنَ خِيَرَتَيْنِ: أَنْ يَأْخُذُوا الْعَقْلَ، أَوْ يَقْتُلُوا".
ابوشریح کعبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو خزاعہ کے لوگو! تم نے ہذیل کے اس شخص کو قتل کیا ہے، اور میں اس کی دیت دلاؤں گا، میری اس گفتگو کے بعد کوئی قتل کیا گیا تو مقتول کے لوگوں کو دو باتوں کا اختیار ہو گا یا وہ دیت لے لیں یا قتل کر ڈالیں“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4504]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (3457) ¤ أخرجه الترمذي (1406 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الدیات 13 (1406)، (تحفة الأشراف: 12058)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/31) (صحیح)