سنن أبي داود حدیث نمبر: 4473
Sunan Abi Dawud 4473
کتاب #40: کتاب: حدود اور تعزیرات کا بیان
34: باب فِي إِقَامَةِ الْحَدِّ عَلَى الْمَرِيضِ
باب: مریض پر حد نافذ کرنے کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " فَجَرَتْ جَارِيَةٌ لِآلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا عَلِيُّ انْطَلِقْ فَأَقِمْ عَلَيْهَا الْحَدَّ، فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا بِهَا دَمٌ يَسِيلُ لَمْ يَنْقَطِعْ فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ: يَا عَلِيُّ أَفَرَغْتَ؟ قُلْتُ: أَتَيْتُهَا وَدَمُهَا يَسِيلُ، فَقَالَ: دَعْهَا حَتَّى يَنْقَطِعَ دَمُهَا ثُمَّ أَقِمْ عَلَيْهَا الْحَدَّ، وَأَقِيمُوا الْحُدُودَ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، فَقَالَ فِيهِ قَال: لَا تَضْرِبْهَا حَتَّى تَضَعَ، وَالْأَوَّلُ أَصَحُّ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے کسی کی لونڈی نے حرام کاری کر لی تو آپ نے فرمایا: ”علی! جاؤ اور اس پر حد قائم کرو“ میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس کا خون بہے چلا جا رہا ہے، رکتا ہی نہیں، یہ دیکھ کر میں آپ کے پاس واپس آ گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”علی! کیا حد لگا کر آ گئے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس کے پاس آیا دیکھا تو اس کا خون بہ رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا بند ہونے تک رکے رہو، جب بند ہو جائے تو اسے ضرور حد لگاؤ، اور حدوں کو اپنے غلاموں اور لونڈیوں پر بھی قائم کیا کرو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ابوالاحوص نے عبدالاعلیٰ سے روایت کیا ہے، اور اسے شعبہ نے بھی عبدالاعلی سے روایت کیا ہے، اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے حد نہ لگانا جب تک وہ بچہ جن نہ دے“ لیکن پہلی روایت زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4473]
قال الشيخ الألباني:
صحيح م دون قوله وأقيموا الحدود
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ عبدالأعلي بن عامر الثعلبي ضعيف ¤ وحديث مسلم (1705) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 158
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10283)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحدود 7 (1705)، سنن الترمذی/الحدود 13 (1441)، مسند احمد (1/89، 95، 135، 136، 145) (صحیح)