سنن أبي داود حدیث نمبر: 446
Sunan Abi Dawud 446
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
11: باب فِي مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلاَةِ، أَوْ نَسِيَهَا
باب: جو نماز کے وقت سو جائے یا اسے بھول جائے تو کیا کرے؟
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ حَرِيزٍ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ ذِي مِخْبَرٍ ابْنِ أَخِي النَّجَاشِيِّ، فِي هَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَأَذَّنَ وَهُوَ غَيْرُ عَجِلٍ.
اس سند سے بھی ذی مخبر سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے انہوں نے بغیر جلد بازی کے ٹھہر ٹھہر کر اذان دی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 446]
قال الشيخ الألباني:
شاذ
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ انظر الحديث السابق: 445 ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 29
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3548) (شاذ) (ولید بن مسلم مدلس ہیں اور دیگر رواة کی مخالفت کرتے ہوے اذان کی بابت بھی وھو غیر عجل بڑھا دیا ہے)