سنن أبي داود حدیث نمبر: 4411
Sunan Abi Dawud 4411
کتاب #40: کتاب: حدود اور تعزیرات کا بیان
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ، قَالَ: سَأَلْنَا فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ عَنْ تَعْلِيقِ الْيَدِ فِي الْعُنُقِ لِلسَّارِقِ أَمِنَ السُّنَّةِ هُوَ؟ قَالَ: " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَارِقٍ فَقُطِعَتْ يَدُهُ ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَعُلِّقَتْ فِي عُنُقِهِ".
عبدالرحمٰن بن محیریز کہتے ہیں کہ میں نے فضالہ بن عبید سے چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کے گلے میں لٹکانے کے متعلق پوچھا کہ کیا یہ مسنون ہے؟ تو آپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹا گیا پھر آپ نے اس کے متعلق حکم دیا تو اسے اس کے گلے میں لٹکا دیا گیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4411]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1447) نسائي (4985) ابن ماجه (2587) ¤ حجاج بن أرطاة مدلس و عنعن وقال النسائي: ”الحجاج بن أرطاة ضعيف ولا يحتج به‘‘ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 156
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الحدود 17 (1447)، سنن النسائی/قطع السارق 15 (4985)، سنن ابن ماجہ/الحدود 23 (2587)، (تحفة الأشراف: 11029)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/19) (ضعیف) (سند میں حجاج بن ارطاة ضعیف اور عبدالرحمن بن محیریز مجہول ہیں)