سنن أبي داود حدیث نمبر: 4401
Sunan Abi Dawud 4401
کتاب #40: کتاب: حدود اور تعزیرات کا بیان
16: باب فِي الْمَجْنُونِ يَسْرِقُ أَوْ يُصِيبُ حَدًّا
باب: دیوانہ اور پاگل چوری کرے یا حد کا ارتکاب کرے تو کیا حکم ہے؟
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مُرَّ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِمَعْنَى عُثْمَانَ قَالَ: أَوَ مَا تَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ عَنِ الْمَجْنُونِ الْمَغْلُوبِ عَلَى عَقْلِهِ حَتَّى يَفِيقَ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ، قَالَ: صَدَقْتَ قَالَ فَخَلَّى عَنْهَا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اسے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزارا گیا، آگے اسی طرح جیسے عثمان بن ابی شیبہ کی روایت کا مفہوم ہے، اس میں ہے: کیا آپ کو یاد نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”قلم تین آدمیوں سے اٹھا لیا گیا ہے: مجنون سے جس کی عقل جاتی رہے یہاں تک کہ صحت یاب ہو جائے، سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے“ تو عمر رضی اللہ عنہ بولے: تم نے سچ کہا، پھر انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4401]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ سليمان بن مھران الأعمش مدلس وعنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 156
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: (4399)، (تحفة الأشراف: 10196) (صحیح)