سنن أبي داود حدیث نمبر: 4368
Sunan Abi Dawud 4368
کتاب #40: کتاب: حدود اور تعزیرات کا بیان
3: باب مَا جَاءَ فِي الْمُحَارِبَةِ
باب: اللہ و رسول سے محاربہ (جنگ) کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوَهُ زَادَ ثُمَّ نَهَى، عَنِ الْمُثْلَةِ، وَلَمْ يَذْكُرْ مِنْ خِلَافٍ وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، وَسَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ، عَنْ ثَابِتٍ جَمِيعًا، عَنْ أَنَسٍ لَمْ يَذْكُرَا مِنْ خِلَافٍ وَلَمْ أَجِدْ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ قَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ مِنْ خِلَافٍ إِلَّا فِي حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ.
اس سند سے بھی انس بن مالک سے یہی حدیث انہیں جیسے الفاظ سے مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے ”پھر آپ نے مثلہ سے منع فرما دیا“ اور اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ ایک طرف کا ہاتھ کاٹا تو دوسرے طرف کا پیر۔ شعبہ نے قتادہ اور سلام بن مسکین سے انہوں نے ثابت سے، ثابت نے انس سے روایت کی ہے لیکن ان دونوں نے بھی یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ ایک طرف کا ہاتھ کاٹا، تو دوسری طرف کا پیر اور مجھے حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی کی روایت میں یہ اضافہ نہیں ملا کہ ایک طرف کا ہاتھ کاٹا تو دوسری طرف کا پیر۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4368]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (1501، 5685)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (4364)، (تحفة الأشراف: 1385)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/177) (صحیح)