📖 سنن أبي داود • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن أبي داود

Sunan Abi Dawud (سُنَنُ أَبِي دَاوُدَ)
📁 کتاب: اہم معرکوں کا بیان جو امت میں ہونے والے ہیں (كِتَاب الْمَلَاحِمِ) 🏷️ باب: باب: جساسہ کا بیان۔
عربی:
اردو:
15: باب فِي خَبَرِ الْجَسَّاسَةِ
باب: جساسہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ: " إِنَّهُ حَبَسَنِي، حَدِيثٌ كَانَ يُحَدِّثُنِيهِ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ، عَنْ رَجُلٍ كَانَ فِي جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ فَإِذَا أَنَا بِامْرَأَةٍ تَجُرُّ شَعْرَهَا، قَالَ: مَا أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ اذْهَبْ إِلَى ذَلِكَ الْقَصْرِ، فَأَتَيْتُهُ فَإِذَا رَجُلٌ يَجُرُّ شَعْرَهُ مُسَلْسَلٌ فِي الْأَغْلَالِ يَنْزُو فِيمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَقُلْتُ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا الدَّجَّالُ خَرَجَ نَبِيُّ الْأُمِّيِّينَ بَعْدُ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: أَطَاعُوهُ أَمْ عَصَوْهُ؟ قُلْتُ: بَلْ أَطَاعُوهُ، قَالَ: ذَاكَ خَيْرٌ لَهُمْ".
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء پڑھنے میں دیر کی، پھر نکلے تو فرمایا: مجھے ایک بات نے روک لیا، جسے تمیم داری ایک آدمی کے متعلق بیان کر رہے تھے، تو میں سمندر کے جزیروں میں سے ایک جزیرے میں تھا، تمیم کہتے ہیں کہ ناگاہ میں نے ایک عورت کو دیکھا جو اپنے بال کھینچ رہی ہے، تو میں نے پوچھا: تم کون ہو؟ وہ بولی: میں جساسہ ۱؎ ہوں، تم اس محل کی طرف جاؤ، تو میں اس محل میں آیا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس میں ایک شخص ہے جو اپنے بال کھینچ رہا ہے، وہ بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے، اور آسمان و زمین کے درمیان میں اچھلتا ہے، میں نے اس سے پوچھا: تم کون ہو؟ تو اس نے کہا: میں دجال ہوں، کیا امیوں کے نبی کا ظہور ہو گیا؟ میں نے کہا: ہاں (وہ ظاہر ہو چکے ہیں) اس نے پوچھا: لوگوں نے ان کی اطاعت کی ہے یا نافرمانی؟ میں نے کہا: نہیں، بلکہ لوگوں نے ان کی اطاعت کی ہے، تو اس نے کہا: یہ بہتر ہے ان کے لیے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4325]
💡 وضاحت:
۱؎: اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جساسہ ایک عورت ہے اور اس کے بعد والی روایت میں ہے کہ وہ ایک دابہ ہے بظاہر دونوں روایتیں متعارض ہیں اس تعارض کو حسب ذیل طریقے سے دفع کیا جاتا ہے: ۱- ہو سکتا ہے کہ دجال کے پاس دو جساسہ ہوں ایک دابہ ہو اور دوسری عورت ہو، ۲- یا وہ شیطانہ ہو جو کبھی دابہ کی شکل میں ظاہر ہوتی رہی ہو اور کبھی عورت کی شکل میں کیونکہ شیطان جو شکل چاہے اپنا سکتا ہے، ۳- یا اسے مجازاً دابہ کہا گیا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول «وما من دابّۃ فی الارض إلا علی اللہ رزقھا»  میں ہے، اگلی روایت کے الفاظ «فرقنا منھا ان تکون شیطانۃ» سے اس کی تائید ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ مشكوة المصابيح (5484) ¤ وللحديث شواھد انظر الحديث الآتي (4326)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18039) (صحیح)
سنن أبي داود • حدیث #4325
4323 4324 4325 4326 4327

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#4326 حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِ...
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی کو پکارتے سنا: ...
#4327 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صُدْرَانَ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَا...
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی، پھر آپ منبر پر چڑھے...
#4328 حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ ا...
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن منبر پر فرمایا: ” کچھ لوگ سمندر...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ