سنن أبي داود حدیث نمبر: 4316
Sunan Abi Dawud 4316
کتاب #39: کتاب: اہم معرکوں کا بیان جو امت میں ہونے والے ہیں
14: باب خُرُوجِ الدَّجَّالِ
باب: دجال کے نکلنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: "مَا بُعِثَ نَبِيٌّ إِلَّا قَدْ أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ الْأَعْوَرَ الْكَذَّابَ أَلَا وَإِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ وَإِنَّ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَكْتُوبًا كَافِرٌ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی ایسا نبی نہیں بھیجا گیا جس نے اپنی امت کو کانے اور جھوٹے دجال سے ڈرایا نہ ہو، تو خوب سن لو کہ وہ کانا ہو گا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے، اور اس کی دونوں آنکھوں کے بیچ یعنی پیشانی پر ”کافر“ لکھا ہو گا“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4316]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (7131) صحيح مسلم (2933)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الفتن 26 (7131) التوحید 17 (7408)، صحیح مسلم/الفتن 20 (2933)، سنن الترمذی/الفتن62 (2245)، (تحفة الأشراف: 1241)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/103، 173، 276، 290) (صحیح)