📖 سنن أبي داود • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن أبي داود

Sunan Abi Dawud (سُنَنُ أَبِي دَاوُدَ)
📁 کتاب: اہم معرکوں کا بیان جو امت میں ہونے والے ہیں (كِتَاب الْمَلَاحِمِ) 🏷️ باب: باب: دشمن سے جنگ کے وقت اندرونی فتنہ دبا رہے گا۔
عربی:
اردو:
7: باب ارْتِفَاعِ الْفِتْنَةِ فِي الْمَلاَحِمِ
باب: دشمن سے جنگ کے وقت اندرونی فتنہ دبا رہے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل. ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ، قَالَ هَارُونُ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَنْ يَجْمَعَ اللَّهُ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ سَيْفَيْنِ سَيْفًا مِنْهَا وَسَيْفًا مِنْ عَدُوِّهَا".
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس امت پر دو تلواریں (بلائیں) اکٹھی نہیں کرے گا کہ ایک تلوار تو خود اسی کی ہو، اور ایک تلوار اس کے دشمن کی ہو ۲؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4301]
💡 وضاحت:
۱؎: فتنہ سے مراد خود مسلمانوں کی آپس کی جنگ ہے۔
۲؎: یعنی ایسا نہیں ہو گا کہ ایک ہی وقت میں وہ آپس میں بھی لڑیں، اور اپنے دشمن سے بھی لڑیں، جب دوسری قومیں ان پر حملہ آور ہوں گی تو اللہ ان کی آپسی اختلافات کو ختم کر دے گا، اور اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کے لئے سارے مسلمان مل کر اپنے دشمن سے لڑیں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف ¤ يحيي بن جابر لم يلق عوف بن مالك ¤ فالسند منقطع ¤ انظر التحرير (79/4 رقم 7518) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 153
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10917)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/26) (صحیح)
سنن أبي داود • حدیث #4301
4299 4300 4301 4302 4303
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ