سنن أبي داود حدیث نمبر: 43
Sunan Abi Dawud 43
کتاب #1: کتاب: طہارت کے مسائل
23: باب فِي الاِسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ
باب: پانی سے استنجاء کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي الْوَاسِطِيَّ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي الْحَذَّاءَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ حَائِطًا وَمَعَهُ غُلَامٌ مَعَهُ مِيضَأَةٌ وَهُوَ أَصْغَرُنَا، فَوَضَعَهَا عِنْدَ السِّدْرَةِ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا وَقَدِ اسْتَنْجَى بِالْمَاءِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ کے اندر تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک لڑکا تھا جس کے ساتھ ایک لوٹا تھا، وہ ہم میں سب سے کم عمر تھا، اس نے اسے بیر کے درخت کے پاس رکھ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حاجت سے فارغ ہوئے تو پانی سے استنجاء کر کے ہمارے پاس آئے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 43]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (152) صحيح مسلم (270)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 15 (150)، 16 (151)، 17 (152)، 56 (217)، الصلاة 93 (500)، صحیح مسلم/الطھارة 21 (270، 271)، سنن النسائی/الطھارة 41 (45)، (تحفة الأشراف: 1094)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/171) (صحیح)