سنن أبي داود حدیث نمبر: 4202
Sunan Abi Dawud 4202
کتاب #35: کتاب: بالوں اور کنگھی چوٹی کے احکام و مسائل
17: باب فِي نَتْفِ الشَّيْبِ
باب: سفید بال اکھاڑنے کی ممانعت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى. ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الْمَعْنَى، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَنْتِفُوا الشَّيْبَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَشِيبُ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ، قَالَ عَنْ سُفْيَانَ: إِلَّا كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ يَحْيَى: إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفید بال نہ اکھیڑو، اس لیے کہ جس مسلمان کا کوئی بال حالت اسلام میں سفید ہوا ہو (سفیان کی روایت میں ہے) تو وہ اس کے لیے قیامت کے دن نور ہو گا (اور یحییٰ کی روایت میں ہے) اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک نیکی لکھے گا اور اس سے ایک گناہ مٹا دے گا“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4202]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (3385، 4458) ¤ أخرجه النسائي (5071 وسنده حسن) ابن عجلان صرح بالسماع عند أحمد (2/179)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8783، 8801)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأدب 59 (2821)، سنن النسائی/الزینة 13 (5083)، سنن ابن ماجہ/الأدب 25 (3721)، مسند احمد (2/206، 207، 212) (حسن صحیح)