سنن أبي داود حدیث نمبر: 4172
Sunan Abi Dawud 4172
کتاب #35: کتاب: بالوں اور کنگھی چوٹی کے احکام و مسائل
6: باب فِي رَدِّ الطِّيبِ
باب: خوشبو کا تحفہ لوٹانا کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعْنَى، أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ عُرِضَ عَلَيْهِ طِيبٌ فَلَا يَرُدَّهُ فَإِنَّهُ طَيِّبُ الرِّيحِ خَفِيفُ الْمَحْمَلِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے خوشبو کا (تحفہ) پیش کیا جائے تو وہ اسے لوٹائے نہیں کیونکہ وہ خوشبودار ہے اور اٹھانے میں ہلکا ہے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4172]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اسے رکھنے اور اٹھانے میں کسی پریشانی اور زحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (2253)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الألفاظ من الأدب 5 (2253)، سنن النسائی/الزینة من المجتبی 20 (5261)، (تحفة الأشراف: 13945)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/320) (صحیح)