سنن أبي داود حدیث نمبر: 399
Sunan Abi Dawud 399
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
4: باب فِي وَقْتِ صَلاَةِ الظُّهْرِ
باب: ظہر کے وقت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " كُنْتُ أُصَلِّي الظُّهْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَآخُذُ قَبْضَةً مِنَ الْحَصَى لِتَبْرُدَ فِي كَفِّي أَضَعُهَا لِجَبْهَتِي أَسْجُدُ عَلَيْهَا لِشِدَّةِ الْحَرِّ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر پڑھتا تو ایک مٹھی کنکری اٹھا لیتا تاکہ وہ میری مٹھی میں ٹھنڈی ہو جائے، میں اسے گرمی کی شدت کی وجہ سے اپنی پیشانی کے نیچے رکھ کر اس پر سجدہ کرتا تھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 399]
💡 وضاحت:
معلوم ہوا کہ ظہر کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اول وقت میں گرمی کے وقت میں ادا فرماتے تھے اور آپ کے بعد خلفائے راشدین کا بھی یہی معمول رہا۔ شرعی ضرورت کے تحت اس قسم کا عمل جیسے کہ جابر رضی اللہ عنہ نے کیا جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (1011)
تخریج دارالدعوہ:
وقد تفرد بہ أبو داود: (تحفة الأشراف: 2252)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/التطبیق 33 (1080)، مسند احمد (3/327) (حسن)