سنن أبي داود حدیث نمبر: 3894
Sunan Abi Dawud 3894
کتاب #29: کتاب: علاج کے احکام و مسائل
19: باب كَيْفَ الرُّقَى
باب: جھاڑ پھونک کیسے ہو؟
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: " رَأَيْتُ أَثَرَ ضَرْبَةٍ فِي سَاقِ سَلَمَة، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ؟ قَالَت: أَصَابَتْنِي يَوْمَ خَيْبَرَ، فَقَالَ النَّاسُ: أُصِيبَ سَلَمَةُ فَأُتِيَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَفَثَ فِيَّ ثَلَاثَ نَفَثَاتٍ فَمَا اشْتَكَيْتُهَا حَتَّى السَّاعَةِ".
یزید بن ابی عبید کہتے ہیں کہ میں نے سلمہ رضی اللہ عنہ کی پنڈلی میں چوٹ کا ایک نشان دیکھا تو میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے یہ چوٹ خیبر کے دن لگی تھی، لوگ کہنے لگے تھے: سلمہ رضی اللہ عنہ کو ایسی چوٹ لگی ہے (اب بچ نہیں سکیں گے) تو مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، آپ نے تین بار مجھ پر دم کیا اس کے بعد سے اب تک مجھے اس میں کوئی تکلیف نہیں محسوس ہوئی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3894]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (4206)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المغازي 38 (4206)، (تحفة الأشراف: 4546)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/48) (صحیح)