سنن أبي داود حدیث نمبر: 3882
Sunan Abi Dawud 3882
کتاب #29: کتاب: علاج کے احکام و مسائل
16: باب فِي الْغَيْلِ
باب: رضاعت کے دوران عورت سے جماع کرنا کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ جُدَامَةَ الأَسَدِيَّةِ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ حَتَّى ذُكِّرْتُ أَنَّ الرُّومَ، وَفَارِسَ يَفْعَلُونَ ذَلِكَ فَلَا يَضُرُّ أَوْلَادَهُمْ"، قَالَ مَالِكٌ: الْغِيلَةُ أَنْ يَمَسَّ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ تُرْضِعُ.
جدامہ اسدیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”میں نے قصد کر لیا تھا کہ «غیلہ» سے منع کر دوں پھر مجھے یاد آیا کہ روم اور فارس کے لوگ ایسا کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کوئی ضرر نہیں پہنچتا“۔ مالک کہتے ہیں: «غیلہ» یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی سے حالت رضاعت میں جماع کرے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3882]
💡 وضاحت:
۱؎: پہلی حدیث سے «غیلہ» یعنی عورت بچے کو دودھ پلا رہی ہو تو ان دنوں میں جماع کرنے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے، اور دوسری حدیث سے جواز نکلتا ہے، مگریہ اسی صورت میں ہے کہ اولاد کو نقصان پہنچنے کا ڈر نہ ہو، اگر نقصان پہنچنے کا ڈر ہو تو ایسا کرنا ناجائز ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (1442)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/النکاح 24 (1442)، سنن الترمذی/الطب 27 (2076)، سنن النسائی/النکاح 54 (3328)، سنن ابن ماجہ/النکاح 6 (2011)، (تحفة الأشراف: 15786)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الرضاع 3 (16)، مسند احمد (6/361، 434)، سنن الدارمی/النکاح 33 (2263) (صحیح)