سنن أبي داود حدیث نمبر: 380
Sunan Abi Dawud 380
کتاب #1: کتاب: طہارت کے مسائل
139: باب الأَرْضِ يُصِيبُهَا الْبَوْلُ
باب: زمین پر پیشاب پڑ جائے تو کیا کرنا چاہئے؟
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَابْنُ عَبْدَةَ، في آخرين وهذا لفظ ابن عبدة، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فَصَلَّى، قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ: رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا، وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا، ثُمَّ لَمْ يَلْبَثْ أَنْ بَالَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَأَسْرَعَ النَّاسُ إِلَيْهِ، فَنَهَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: " إِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ، صُبُّوا عَلَيْهِ سَجْلًا مِنْ مَاءٍ، أَوْ قَالَ: ذَنُوبًا مِنْ مَاءٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی مسجد میں آیا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، اس نے نماز پڑھی (ابن عبدہ نے اپنی روایت میں کہا: اس نے دو رکعت نماز پڑھی)، پھر کہا: ”اے اللہ! مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم کر اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ کرنا“، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اللہ کی وسیع رحمت کو تنگ اور محدود کر دیا“، پھر زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ مسجد کے ایک کونے میں وہ پیشاب کرنے لگا تو لوگ اس کی طرف دوڑے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اعرابی کو ڈانٹنے سے منع کیا اور فرمایا: ”تم لوگ لوگوں پر آسانی کرنے کے لیے بھیجے گئے ہو، سختی کرنے کے لیے نہیں، اس پر ایک ڈول پانی ڈال دو“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 380]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ وانظر مسند حميدي (944 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الطھارة 112 (147)، سنن النسائی/الطھارة 45 (56)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 78 (529)، (تحفة الأشراف: 13139)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 58 (220)، صحیح مسلم/الطھارة (274، 275)، مسند احمد (2/239، 503) (صحیح)