سنن أبي داود حدیث نمبر: 3718
Sunan Abi Dawud 3718
کتاب #27: کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل
13: باب فِي الشُّرْبِ قَائِمًا
باب: کھڑے ہو کر پانی پینا کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ، أَنَّ عَلِيًّا دَعَا بِمَاءٍ فَشَرِبَهُ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ رِجَالًا يَكْرَهُ أَحَدُهُمْ أَنْ يَفْعَلَ هَذَا، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ مِثْلَ مَا رَأَيْتُمُونِي أَفْعَلُهُ".
نزال بن سبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا اور اسے کھڑے ہو کر پیا اور کہا: بعض لوگ ایسا کرنے کو مکروہ اور ناپسند سمجھتے ہیں حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے جیسے تم لوگوں نے مجھے کرتے دیکھا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3718]
💡 وضاحت:
۱؎: پچھلی حدیث میں جو فرمان ہے وہ عام اوقات کے لئے ہے اور اس حدیث میں صرف جواز کی بات ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (5615)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأشربة 16 (5615)، سنن الترمذی/الشمائل 32 (209)، سنن النسائی/الطہارة 100 (130)، (تحفة الأشراف: 10293)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/78، 120، 123، 139، 153، 159) (صحیح)