سنن أبي داود حدیث نمبر: 3711
Sunan Abi Dawud 3711
کتاب #27: کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل
10: باب فِي صِفَةِ النَّبِيذِ
باب: نبیذ کا وصف کہ وہ کب تک پی جائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " كَانَ يُنْبَذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ يُوكَأُ أَعْلَاهُ، وَلَهُ عَزْلَاءُ يُنْبَذُ غُدْوَةً فَيَشْرَبُهُ عِشَاءً، وَيُنْبَذُ عِشَاءً فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک ایسے چمڑے کے برتن میں نبیذ تیار کی جاتی تھی جس کا اوپری حصہ باندھ دیا جاتا، اور اس کے نیچے کی طرف بھی منہ ہوتا، صبح میں نبیذ بنائی جاتی تو اسے شام میں پیتے اور شام میں نبیذ بنائی جاتی تو اسے صبح میں پیتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3711]
💡 وضاحت:
۱؎: فجر سے لیکر سورج چڑہنے تک کے درمیانی وقت کو «غدوۃ» کہتے ہیں، اور زوال کے بعد سے سورج ڈوبنے تک کے وقت کو «عشاء» کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (2005)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الأشربة 9 (2005)، سنن الترمذی/الأشربة 7 (1871)، (تحفة الأشراف: 17836) (صحیح)