سنن أبي داود حدیث نمبر: 3679
Sunan Abi Dawud 3679
کتاب #27: کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل
5: باب النَّهْىِ عَنِ الْمُسْكِرِ
باب: نشہ لانے والی چیزوں سے ممانعت کا بیان۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى فِي آخَرِينَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَمَنْ مَاتَ وَهُوَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ يُدْمِنُهَا لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز شراب ہے، اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۱؎، اور جو مر گیا اور وہ شراب پیتا تھا اور اس کا عادی تھا تو وہ آخرت میں اسے نہیں پئے گا (یعنی جنت کی شراب سے محروم رہے گا)“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3679]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بدمست کر دینے والی اور نشہ لانے والی چیزوں کو شراب کہا جاتا ہے اور یہ حرام ہے، یہ نشہ آور شراب کھجور سے ہو یا منقی، شہد، گیہوں اور جوار باجرہ سے، یا کسی درخت کا نچوڑا ہوا عرق ہو جیسے تاڑی یا کوئی گھاس ہو جیسے بھانگ وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (2003)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الأشربة 8 (2003) سنن الترمذی/الأشربة 1 (1861)، سنن النسائی/الأشربة 46 (5676، 5677)، (تحفة الأشراف: 7516)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأشربة 1 (5575)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 1 (3377)، مسند احمد (2/19، 22، 28، 35، 198، 123) سنن الدارمی/الأشربة 3 (2135) (صحیح)