سنن أبي داود حدیث نمبر: 3675
Sunan Abi Dawud 3675
کتاب #27: کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل
3: باب مَا جَاءَ فِي الْخَمْرِ تُخَلَّلُ
باب: شراب کا سرکہ بنانا کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنْ أَيْتَامٍ وَرِثُوا خَمْرًا؟ قَالَ: أَهْرِقْهَا، قَالَ: أَفَلَا أَجْعَلُهَا خَلًّا؟ قَالَ: لَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوطلحہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان یتیموں کے سلسلے میں پوچھا جنہوں نے میراث میں شراب پائی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بہا دو“ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا میں اس کا سرکہ نہ بنا لوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3675]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (1983) ¤ مشكوة المصابيح (3649)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الأشربة 2 (1983)، سنن الترمذی/البیوع 58 (1294)، (تحفة الأشراف: 1668)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/119، 180، 260)، سنن الدارمی/الأشربة 17 (2161) (صحیح)