سنن أبي داود حدیث نمبر: 3603
Sunan Abi Dawud 3603
کتاب #25: کتاب: قضاء کے متعلق احکام و مسائل
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ، وَحَدَّثَنِيهِ صَاحِبٌ لِي عَنْهُ، وَأَنَا لِحَدِيثِ صَاحِبِي أَحْفَظُ، قَالَ: " تَزَوَّجْتُ أُمَّ يَحْيَى بِنْتَ أَبِي إِهَابٍ، فَدَخَلَتْ عَلَيْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْنَا جَمِيعًا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا لَكَاذِبَةٌ، قَالَ: وَمَا يُدْرِيكَ؟ وَقَدْ قَالَتْ: مَا قَالَتْ دَعْهَا عَنْكَ".
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ مجھ سے عقبہ بن حارث نے اور میرے ایک دوست نے انہیں کے واسطہ سے بیان کیا اور مجھے اپنے دوست کی روایت زیادہ یاد ہے وہ (عقبہ) کہتے ہیں: میں نے ام یحییٰ بنت ابی اہاب سے شادی کی، پھر ہمارے پاس ایک کالی عورت آ کر بولی: میں نے تم دونوں (میاں، بیوی) کو دودھ پلایا ہے ۱؎، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے چہرہ پھیر لیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ عورت جھوٹی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیا معلوم؟ اسے جو کہنا تھا اس نے کہہ دیا، تم اسے اپنے سے علیحدہ کر دو“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3603]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رضاعت کے ثبوت کے لیے ایک مرضعہ (دودھ پلانے والی) کی گواہی کافی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (5104)
تخریج دارالدعوہ:
خ العلم 26 (88)، البیوع 3 (2052)، الشھادات 4 (2640)، 13 (2659)، 14 (2660)، النکاح 23 (5104)، سنن الترمذی/الرضاع 4 (1151)، سنن النسائی/النکاح 57 (3332)، (تحفة الأشراف: 9905)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/7، 8، 384)، سنن الدارمی/النکاح 51 (2301) (صحیح)