سنن أبي داود حدیث نمبر: 3600
Sunan Abi Dawud 3600
کتاب #25: کتاب: قضاء کے متعلق احکام و مسائل
16: باب مَنْ تُرَدُّ شَهَادَتُهُ
باب: کس کی گواہی نہیں مانی جائے گی؟
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ شَهَادَةَ الْخَائِنِ، وَالْخَائِنَةِ، وَذِي الْغِمْرِ عَلَى أَخِيهِ، وَرَدَّ شَهَادَةَ الْقَانِعِ لِأَهْلِ الْبَيْتِ، وَأَجَازَهَا لِغَيْرِهِمْ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْغِمْرُ الْحِنَةُ، وَالشَّحْنَاءُ، وَالْقَانِعُ الْأَجِيرُ التَّابِعُ مِثْلُ الْأَجِيرِ الْخَاصِّ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیانت کرنے والے مرد، خیانت کرنے والی عورت اور اپنے بھائی سے بغض و کینہ رکھنے والے شخص کی شہادت رد فرما دی ہے، اور خادم کی گواہی کو جو اس کے گھر والوں (مالکوں) کے حق میں ہو رد کر دیا ہے اور دوسروں کے لیے جائز رکھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «غمر» کے معنیٰ: کینہ اور بغض کے ہیں، اور «قانع» سے مراد پرانا ملازم مثلاً خادم خاص ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3600]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (3782)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 8711)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/181، 203، 204، 225) (حسن)