سنن أبي داود حدیث نمبر: 3569
Sunan Abi Dawud 3569
کتاب #24: کتاب: اجارے کے احکام و مسائل
56: باب الْمَوَاشِي تُفْسِدُ زَرْعَ قَوْمٍ
باب: مویشی دوسروں کے کھیت برباد کر دیں تو اس کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ دَخَلَتْ حَائِطَ رَجُلٍ، فَأَفْسَدَتْهُ عَلَيْهِمْ، " فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ الْأَمْوَالِ حِفْظَهَا بِالنَّهَارِ، وَعَلَى أَهْلِ الْمَوَاشِي حِفْظَهَا بِاللَّيْلِ".
محیصہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ براء بن عازب رضی اللہ عنہما کی اونٹنی ایک شخص کے باغ میں گھس گئی اور اسے تباہ و برباد کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ کیا کہ دن میں مال والوں پر مال کی حفاظت کی ذمہ داری ہے اور رات میں جانوروں کی حفاظت کی ذمہ داری جانوروں کے مالکان پر ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3569]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اگر اونٹنی نے رات میں باغ کو نقصان پہنچایا ہے تو اونٹنی کا مالک اس نقصان کو پورا کرے گا، اور اگر دن میں نقصان پہنچائے تو باغ کا مالک اس نقصان کو برداشت کرے، کیونکہ باغ کی حفاظت خود اسی کی اپنی ذمہ داری تھی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ الزھري مدلس (تقدم: 145) وعنعن ¤ وانظر الحديث الآتي (3570) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 126
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الأحکام 13 (2332)، (تحفة الأشراف: 1753، 2332)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/436)، موطا امام مالک/الأقضیة 28(37) (صحیح)